Nayyara Noor.. MADHUBALA .. Haan kar ja, ya na kar ja tu ... A tribute to Kanan Devi ji

Mukhtar Ambarsari Clip Score 50

الوصف

#mukhtarlyallpuri #mymadhubala
Kuch Yaad Rahe To Sun Kar Jaa - कुछ याद रहे
tu haan kar ja ya na kar jaa ... NAYYARA NOOR

This marvellous song. 'Tu Haan kar ja, ya na kar ja' which is from the movie JAWAB 1942, was sung by great KANAN DEVI ij. This rendition is from a Pakistani singer NAYYARA NOOR.

I have compiled it on Madhubala using clips of movie Tarana 1951.

JAWAB 1942 was a super musical hit composed by great KAMAL DASGUPTA ji with such gems as, ‘Duniya toofan mail’, Kuch yad rahe to sun kar jaa’. ‘ Ae chand chup na jana, Jab tak main geet gaaun, Ye saz zindagi ka, Jee bhar ke main bajaaun’.Then there was a duet:, ‘Dur desh ka rehne wala aya,Aya des paraye’ and of course.

Lyrics of Kuch Yaad Rahe To Sun Kar Jaa - कुछ याद रहे
kuch yaad rahe
kuch yaad rahe to sun kar ja
ha kar ja ya na kar ja
tu ha kar ja ya na kar ja
kuch yaad rahe to sun kar ja
kuch yaad rahe to sun kar ja
tu ha kar ja ya na kar ja
tu ha kar ja ya na kar ja

bhul sake to bhul hi jana
kya bhuli hu bhul batana
bhul sake to bhul hi jana
kya bhuli hu bhul batana
dard diya jo
dard diya hai lekar ja
tu ha kar ja ya na kar ja
tu ha kar ja ya na kar ja

kya swapn rahega swapan jo dekha
kaise bataau kya kya dekha
kya swapn rahega swapan jo dekha
kaise bataau kya kya dekha
dekhu kuch phir
dekhu kuch aisa kar ja
tu ha kar ja ya na kar ja
tu ha kar ja ya na kar ja
tum paas the phir bhi door rahe
majboor the hum majboor rahe
tum paas the phir bhi door rahe
majboor the hum majboor rahe
kya samjhu mai
kya samjhu samjhakar ja
tu ha kar ja ya na kar ja
نیرہ نور
گوہاٹی (آسام) میں پیدا ہوئی ۱۹۵۰ میں۔ پرکھوں کی جڑیں البتہ امرتسر میں تھیں۔ کانن دیوی کے بھجن اور بیگم اختر کی غزلوں نے موسیقی کا ذوق اور مزاج تراشا۔ بھجن کا عجز اس کی گائیکی میں رس گیا تھا۔ سٹیج پر بھی گاتے ہوئے آنکھیں بند ہو جاتی تھیں۔ پروفیسر اسرار نے ۱۹۶۸ میں این سی اے کے کسی پروگرام میں دریافت کیا تھا۔ پھر ریڈیو اور پھر ٹی وی اور فلم۔
اس کا گانا، روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناوں پیا، میرے بچپن کی گہری یاد ہے۔ ہم تین بہن بھائی کا ایک ایک مخصوص گانا تھا۔ میں کشور کا پل پل دل کے پاس، راجی بھی کشور ہی کا، مسافر ہوں یارو، اور میری بہن سنیتا، نیرہ نور کا یہ گانا گاتی تھی۔
نیرہ نور کا گیت، کبھی ہم خوبصورت تھے، اس کی پہچان بن گیا۔ لیکن مجھے ہمیشہ اس کی فیض گوئی نے متاثر کیا، خصوصا یہ پنجابی گیت، کدرے نہ پیندیاں دساں، وے پردیسیاں تیریاں۔
گزشتہ دنوں خبر ہوئی کہ جعفر زیدی اس کا بیٹا ہے۔ یہ لڑکا اتنا سریلا، اتنا گنی اور اتنا رچا ہوا ہے کہ میں اس کی تعریفوں کے پل باندھتا تھا۔ خوشی ہوئی کی دیے سے دیا جلا ہے،۔۔۔۔۔سمجھ آ گئی کہ اس لڑکے کی دھنوں میں اتنا ٹھہراؤ کیوں ہے اور گاتے ہوئے اس کی آنکھیں بند کیوں ہو جاتی ہیں۔
نیرہ نور کے اندر ایک جوگن تھی، ایک بیراگن، ایک میرا،۔۔۔۔۔شاید رادھا بھی اور شاید پیرو پریمن بھی،۔۔۔۔۔۔اس نے ڈوبنا ہی تھا اپنے عشق میں، اپنے عجز میں۔ مجھے موسیقار خٰیام کا ایک انٹرویو یاد آ رہا ہے کہ جس میں ان سےپوچھا گیا تھا کہ وہ کس آواز سے بہت متاثر ہیں۔ انہوں نے نیرہ کا نام لیا اور کہا کہ اس جیسی کوئی دوسری آواز نہیں، کاش میں اس کے لیے دھنیں بنا سکوں۔
بٹوارے نے بہت سوں کو بہت کچھ دیا اور بہت سوں سے بہت کچھ لے لیا۔ خیام سے نیرہ نور کو، اور پروفیسر اسرار سے لتا منگیشکر۔ تنویر جہاں کے شیام نگر والے گھر میں بیٹھے، میں نے اور وجاہت مسعود نے پروفیسر صاحب سے بہت سے سوال کیے، ایک سوال تو یہی تھا جو خیام سے کیا گیا تھا اور پروفیسر صاحب نے لتا کا نام لیا تھا۔ لتا کے لیے دھن بنانے کی تمنا تھی۔ پروفیسر صاحب کی میت پر تنویر جہاں اور میں گئے تھے، شاہ جمال کالونی کے کسی گھر میں۔ ان کے دل میں بھی فیض صاحب گونجتے تھے اور نیرہ نور کے دل میں بھی اور ہماری نسل کے دلوں میں بھی یہ جوت انہی جیسے جوگیوں جوگنوں نے جلائی تھی۔
شیراز راج
۲۱ اگست ۲۰۲۲
MUKHTAR
LONDON 21 MAR 22